منگل، 19 جولائی، 2011

صدف کا ریپ

میرے کہنے پر میری بیوی نجمہ نے ہماری زندگی کا یہ سچا واقعہ لکھا ہے جس نے ہماری ازدواجی زندگی کو خوبصورت ترین بنا دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سے آگے کا واقعہ میری بیوی نجمہ کی زبانی۔۔۔
میری عمر تب 22 سال تھی اور ندیم 25 سال کے تھے۔ ہماری شادی کو ایک سال ہونے کو آیا تھا۔ تبھی اسلام آباد کے خوبصورت مقام پر میرے شوہر کا تبادلہ ہوا۔ ہم دونوں ایسی جگہ پر بہت خوش تھے۔ اسلام آباد کی ہری بھری وادیوں کا پر فضا مقام اور جوان دلوں کا سنگم۔۔۔ کس کو نہ لبھا لے؟ ہمیں کمپنی کی طرف سے کوئی گھر نہیں ملا تھا، اس لیے ہم نے ان کے دفتر سے تھوڑی ہی دور ایک مکان کرائے پر لے لیا تھا۔۔۔ جس کا کرایہ ہمیں کمپنی کی طرف سے ہی ملتا تھا۔ گھر میں کام کرنے کے لیے ہم نے ایک نوکرانی رکھ لی تھی۔ اس کا نام صدف تھا۔ اس کی عمر لگ بھگ 16 سال ہوگی۔ چڑھتی جوانی، خوبصورت، سندر، سیکسی فگر، گوری دودھیا رنگت، بدن پر نو خیز جوانی کےمخروطی ابھار اور چکنا پن جھلکتا تھا۔
ندیم تو پہلے دن سے ہی اس پر فدا تھا۔ مجھ سے اکثر وہ اس کی تعریفیں کرتا رہتا تھا۔ میں اس کے دل کی بات اچھی طرح سمجھتی تھی۔ ندیم کی نظریں اکثر اس کے بدن کا معائنہ کرتی رہتی تھیں۔۔۔ شاید اندر تک کا نظارا کرتی تھیں۔ اس کے ابھار چھوٹے چھوٹے مگر نکیلے تھے۔ اس کے ہونٹ پتلے لیکن پھول کی پنکھڑیوں جیسے تھے۔ میں بھی اس کی کچی جوانی دیکھ دیکھ کر حیران ہوتی تھی اور سوچتی تھی کہ کون خوش قسمت ہو گا جو اسے پہلی دفعہ چودے گا۔
ایک دن ندیم نے رات کو چدائی کے وقت مجھے اپنے دل کی بات بتا ہی دی۔ اس نے کہا "نجمہ۔۔۔ صدف کتنی سیکسی ہے نا۔۔۔"
"ہوں۔۔۔ آں ہاں۔۔۔ ہے تو سہی۔۔۔۔۔۔ لیکن نوجوانی میں تو تمام لڑکیاں اتنی ہی سیکسی ہوتی ہیں۔۔۔" میں نے اسے کریدنے کے لیے کہا گو کہ میں اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ رہی تھی۔
"نجمہ! اس کا بدن دیکھا ہے۔۔۔ اسے دیکھ کر تو۔۔۔ یار من مچل جاتا ہے۔۔۔۔۔۔" ندیم نے کچھ اپنا مطلب واضح کرتے ہوئے کہا۔
"اچھا جی۔۔۔! اب یہ بھی بتا دو جانو۔۔۔ کہ جی کیا کرتا ہے۔۔۔۔۔۔؟" میں ہنس پڑی۔۔۔ مجھے پتا تھا وہ کیا کہے گا۔۔۔
"سنو نجمہ۔۔۔! اسے پٹاؤ نا۔۔۔! اسے چودنے کو دل کرتا ہے۔۔۔"
"ہائے ہائے۔۔۔ تم نوکرانی کو چودوگے۔۔۔۔۔۔ پر ہاں۔۔۔ وہ چیز تو چودنے جیسی ہی ہے۔۔۔"
"تو بولو۔۔۔ میری مدد کروگی نا۔۔۔"
"چلو یار۔۔۔ تم بھی کیا یاد کروگے۔۔۔ کل سے ہی اسے تیار کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔"
پھر میں سوچ میں پڑ گئی کہ کیا طریقہ نکالا جائے۔ سیکس تو سبھی کی کمزوری ہوتی ہی ہے۔ مجھے ایک ترکیب سمجھ میں آئی۔
دوسرے دن صدف کے آنے کا وقت ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔ میں نے اپنے ٹی وی پر ایک بلیو اردو فلم لگا دی۔ اس فلم میں چدائی کے ساتھ اردو ڈائیلاگ بھی تھے۔ صدف کمرے میں صفائی کرنے آئی تو میں باتھ روم میں چلی گئی۔ صفائی کرنے کے لیے جیسے ہی وہ کمرے کے اندر آئی تو اس کی نظر ٹی وی پر پڑی۔۔۔ چدائی کے سین دیکھ کر وہ کھڑی رہ گئی۔ اور سین دیکھتی رہی۔
میں باتھ روم سے سب دیکھ رہی تھی۔ اسے میرا ویڈیو پلیر نظر نہیں آیا کیونکہ وہ لکڑی کے کیس میں تھا۔ وہ دھیرے دھیرے قریب پڑے بیڈ پر بیٹھ گئی۔ اسے مووی دیکھ کر مزا آنے لگ گیا تھا۔ چوت میں لنڈ جاتا دیکھ کر اسے اور بھی زیادہ مزا آ رہا تھا۔ دھیرے دھیرے اس کا ہاتھ اب اس کی چھاتیوں پر آ گیا تھا۔۔۔ وہ گرم ہو رہی تھی۔ میری ترکیب کارگر ثابت ہو رہی تھی ۔ میں نے موقع مناسب جانا اور باتھ روم سے باہر آ گئی۔۔۔
"ارے۔۔۔ ٹی وی پر یہ کیا آنے لگا ہے۔۔۔"
"باجی۔۔۔ بھائی تو ہیں نہیں۔۔۔ چلنے دو نا۔۔۔ ہم ہی تو ہیں۔۔۔"
"ارے نہیں صدف۔۔۔ اسے دیکھ کر دل میں کچھ ہونے لگتا ہے۔۔۔" میں مسکرا کر بولی
میں نے چینل بدل دیا۔۔۔ صدف کے دل میں ہلچل مچ گئی تھی۔۔۔ اس کے جوان جسم میں شہوت نے جنم لے لیا تھا۔
"باجی۔۔۔ یہ کس چینل سے آتا ہے۔۔۔"اس کی ہوس بڑھ رہی تھی۔
"ارے تمہیں دیکھنا ہے نا تو دن کو فری ہو کر آنا۔۔۔ پھر اپن دونوں دیکھیں گے۔۔۔ ٹھیک ہے نا۔۔۔"
"ہاں باجی۔۔۔ تم کتنی اچھی ہو۔۔۔" اس نے مجھے جوش میں آکر پیار کر لیا۔ میں نڈھال ہو گئی۔۔۔ آج اس کی چمی میں سیکس تھا۔ اس نے اپنا کام جلدی سے نمٹا لیا اور چلی گئی۔ میرا تیر نشانے پر لگ چکا تھا۔
تقریباً دن کے ایک بجے صدف واپس آ گئی۔ میں نے اسے پیار سے بیڈ پر بٹھایا اور نیچے سے کیس کھول کر پلیر میں سی ڈی لگا دی اور میں خود بھی بیڈ پر بیٹھ گئی۔ یہ دوسری فلم تھی۔ فلم شروع ہو چکی تھی۔ میں صدف کے چہرے کا رنگ بدلتے دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں شہوت کے ڈورے تیرنا شروع ہو رہے تھے۔ میں نے تھوڑا اور انتظار کیا۔۔۔ چدائی کے سین چل رہے تھے۔
میرے جسم میں بھی شہوت جاگ اٹھی تھی۔ صدف کا بدن بھی رہ رہ کر جھٹکے کھا اٹھتا تھا۔ میں نے اب دھیرے سے اس کی پیٹھ پر ہاتھ رکھا۔ اس کی دھڑکنیں تک محسوس ہو رہی تھیں۔ میں نے اس کی پیٹھ سہلانی شروع کر دی۔ میں نے اسے آہستگی سے اپنی جانب کھینچنے کی کوشش کی۔۔۔ تو وہ مجھ سے چپک گئی۔ اس کا کسا ہوا بدن۔۔۔ اس کے بدن کی خوشبو۔۔۔ مجھے محسوس ہونے لگی تھی۔ ٹی وی پر شاندار چدائی کا سین چل رہا تھا۔ صدف کا دوپٹہ اس کے سینے سے نیچے گر چکا تھا۔۔۔ اس کے پستانوں کا سائز 28 سے زیادہ نہیں ہو گا۔۔۔ میں نے دھیرے سے اس کی چھوٹی چھوٹی مخروطی چھاتیوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔۔۔ اس نے میرا ہاتھ اپنے پستانوں کے اوپر ہی دبا دیا اور سسک پڑی۔
"صدف! کیسا لگ رہا ہے بیٹی۔۔۔؟"
"باجی۔۔۔ بہت ہی اچھا لگ رہا ہے۔۔۔ کتنا مزا آ رہا ہے۔۔۔" کہتے ہوئے اس نے میری طرف دیکھا۔۔۔ میں نے اس کی چونچیاں سہلانی شروع کر دی۔۔۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔
"بس باجی۔۔۔ اب اور نہیں کریں۔۔۔"
"ارے پگلی! مزے لے لے۔۔۔ ایسے موقعے بار بار نہیں آتے ہیں۔۔۔۔۔۔" اور اسے کچھ بولنے کا موقعہ دیے بغیر میں نے اس کے تھرتھراتے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔۔۔ صدف ہوس سے بھری ہوئی تھی۔ اب صدف نے میری 36 سائز کی تنی ہوئی گول گول چھاتیوں کو اپنے ہاتھوں میں بھر لیا اور دھیرے دھیرے انہیں دبانے لگی۔ مجھے بھی بے حد مزا آ رہا تھا۔ میں نے اس کی شلوار کو آہستگی سے نیچے کی جانب کھینچا تو یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ اس نے شلوار میں الاسٹک ڈالا ہوا تھا یعنی میرا کام مزید آسان ہو گیا۔ میں نے کھینچ کر اس کی شلوار نیچے کر دی اور اس کی قمیض کا دامن اوپر اٹھا دیا۔۔۔ آہ اس کی رانیں دودھیا رنگت کی تھیں اور پیٹ بے حد ستواں اور پتلا تھا۔۔۔ میں اس کی چکنی رانوں کو ہاتھ سے آہستہ آہستہ سہلانے لگی۔۔۔ اب میرے ہاتھ دھیرے دھیرے اس کی چوت پر آ چکے تھے جو چکنائی اور پانی چھوڑ رہی تھی۔ میں نے اپنی ایک انگلی آہستگی سے اس کی چوت کے تنگ سوراخ میں سرکائی۔ اس کی چوت کے اندر میری انگلی جاتے ہی صدف مجھ سے لپٹ گئی اور مجھے لگا کہ میرا کام ہو گیا۔
"باجی۔۔۔ ہائے۔۔۔ نہیں کرو نا۔۔۔ ماں۔۔۔ رے۔۔۔"
"کیسا لگ رہا ہے صدف؟
"آہ ہ ہ ہ ہ باجی بس کریں نا آہ ہ ہ ہ۔۔۔"
میں نے اس کی چوت کے دانے کو ہلکے ہلکے سے ہلانے لگی۔۔۔۔ وہ نیچے جھکتی جا رہی تھی۔۔۔ اس کی آنکھیں نشے میں بند ہو رہی تھی۔
ادھر ندیم لنچ پر آ چکا تھا۔ اس نے اندر کمرے میں جھانک کر دیکھا۔ میں نے اسے اشارہ کیا کہ ابھی رکو۔ میں نے صدف کو اور سیکسی کرنے کے لیے اسے کہا - "صدف۔۔۔ آؤ گڑیا میں تمہارا بدن سہلا دوں۔۔۔۔۔۔ کپڑے اتار دو۔۔۔ شاباش!"
"باجی۔۔۔ اوپر سے ہی میرا بدن دبا دیں نا۔۔۔" وہ بستر پر لیٹ گئی اور میں اس کی ننھی منی چھاتیوں کے ابھاروں کو دباتی رہی۔۔۔ اس کی سسکیاں بڑھتی رہی۔۔۔ میں نے اب اس کی بڑھتی ہوئی ہوس دیکھ کر اس کی قمیض بھی اتار دی۔۔۔ اس نے کچھ نہیں کہا۔۔۔ میں نے بھی یہ دیکھ کر اپنے کپڑے فوراً اتار دیے اور بالکل ننگی ہو گئی۔ اب میں اس کی چوت کو اپنی انگلی سے دبا کر سہلانے لگی۔۔۔ اور دھیرے سے ایک انگلی اس کی چوت میں ڈال دی۔ اس کے منہ سے لذت بھری سسکاریاں نکل پڑیں۔۔۔
"صدف۔۔۔ ہائے کتنا مزا آ رہا ہے۔۔۔ ہے نا۔۔۔"
"ہاں باجی۔۔۔ ہائے رے۔۔۔ میں مر گئی۔۔۔"
"صدف! لنڈ سے چدواؤ گی؟ بہت مزا آئے گا۔۔۔"
"کیسے باجی۔۔۔؟ لنڈ کہاں سے لاؤ گی۔۔۔؟"
"اگر تم کہو تو ندیم کو بلا لوں۔۔۔ تمہیں چود کر مست کر دے گا"
"نہیں باجی۔۔۔ نہیں۔۔۔ بھائی سے نہیں۔۔۔"
"اچھا تم الٹی لیٹ جاؤ۔۔۔ اب پیچھے سے تمہارے چوتڑ بھی مسل دوں۔۔۔"
وہ الٹی لیٹ گئی۔ میں نے اس کی چوت کے نیچے تکیا لگا دیا۔ اور اس کی گانڈ اوپر کر دی۔ اب میں نے اس کے دونوں پاؤں پھیلا کر ٹانگیں چوڑی کر دیں اور اس کی گانڈ کے چھید پر اور اس کے آس پاس ہولے ہولے سہلانے لگی۔ وہ لذت سے سسکاریاں بھرنے لگی۔
ندیم دروازے کے پاس کھڑا ہوا سب دیکھ رہا تھا۔ اس نے اپنے کپڑے بھی اتار لیے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر ندیم کا لمبا لنڈ ایک دم تن چکا تھا اور وہ اپنے لنڈ کو ہاتھ سے اوپر نیچے کر رہا تھا۔ میں صدف کی گانڈ اور چوتڑوں کو پیار سے سہلا رہی تھی۔ اس کی ہوس بے حد بڑھ چکی تھی۔ تب میں نے ندیم کو اشارہ کیا۔۔۔ کہ لوہا گرم ہے۔۔۔۔۔۔ آ جاؤ۔۔۔
ندیم دبے پاؤں اندر آ گیا۔ میں نے اشارہ کیا کہ بس اب تم اس بچی کو چود ڈالو۔ صدف کی پھیلی ہوئی ٹانگوں کے درمیان کھلی ہوئی گوری چٹی ٹائٹ چوت ندیم کو نظر آ رہی تھی۔ یہ دیکھ کر اس کا لنڈ اور بھی تننے لگا۔ تب تک ندیم اس کی ٹانگوں کے بیچ میں آ گیا۔ میں صدف کے پیچھے آ گئی۔۔۔ جسے اب تک معلوم ہی نہیں تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ ندیم نے صدف کے چوتڑوں کے پاس آکر لنڈ کو اس کی چوت پر رکھ دیا۔ صدف کو فوراً ہی ہوش آ گیا۔۔۔ لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ ہم میاں بیوی نے مل کر اسے اپنے ہاتھوں میں جکڑ کر قابو کر لیا تھا اور ندیم اس کے چوتڑوں سے نیچے لنڈ اس کی چوت پر ٹکا چکا تھا اور اس کے نازک بازوؤں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں کس لیا تھا اور اس کے نازک جسم کو اپنے ورزشی بدن کے نیچے دبا کر قابو کر چکا تھا۔
صدف چیخ اٹھی۔۔۔ پر تب تک ندیم کا ہاتھ اس کا منہ دبا چکا تھا۔ ادھر میں نے اپنے ہاتھوں میں لے کر ندیم کا موٹا لمبا لنڈ صدف کی چوت کے عین اوپر رکھ دیا تھا۔ ندیم حرکت میں آ گیا۔
اس کا لنڈ اس بچی کی ننھی سی چوت کو چیرتا ہوا اندر تک گھس گیا۔ درد کے مارے صدف کے منہ سے غوغیانے کی آوازیں نکل رہی تھیں اور وہ بستر پر تڑپ رہی تھی اور ندیم کے نیچے سے نکل بھاگنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کی چوت گیلی تھی۔۔۔ چکنی تھی۔۔۔ لیکن ابھی تک چدی نہیں تھی۔ دوسرے ہی دھکے میں لنڈ اندر گہرائی میں اترتا چلا گیا اور صدف کی آنکھیں درد کی شدت سے پھٹی جا رہی تھی۔ غو غو کی آوازیں نکل رہی تھی۔ اس نے اپنے ہاتھوں سے زور لگا کر میرا ہاتھ اپنے منہ سے ہٹا لیا اور زور زور سے بلک کر رونے لگی۔۔۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور چوت سے خون ٹپک رہا تھا۔
"بھااااااااااااائی۔۔۔ چھوڑ دیں مجھے ےےےےے۔۔۔ آآآآہہہ میرے ساتھ ایسے نہ کریں۔۔۔ ہائے ےےےے میں مر جاؤں گی۔۔۔ باجی! آپ مجھے بچا لیں۔۔۔" اس نے منت بھرے انداز میں روتے ہوئے کہا۔ پر لنڈ اپنا کام کر چکا تھا۔
"بس بیٹی۔۔۔ بس۔۔۔ تھوڑا سا برداشت کر لو۔۔۔ ابھی سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ رو مت۔۔۔" میں نے اسے پیار سے پچکارتے ہوئے سمجھایا کیونکہ مجھے اندازہ تھا کہ وہ کس قدر درد سے گزر رہی ہو گی۔
"نہیں نہیں بس۔۔۔ بس باجی مجھے چھوڑ دیں اب۔۔۔ میں تو برباد ہو گئی باجی۔۔۔ آپ نے یہ کیا کر دیا۔۔۔" وہ نیچے دبی ہوئی تڑپتی اور روتی جا رہی تھی اور ہماری منتیں کر رہی تھی لیکن ہم دونوں نے مل کر اسے دبوچ رکھا تھا۔ دبی دبی چیخیں اس کے منہ سے نکلتی رہی لیکن ہم پر ان درد بھری چیخوں کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔ ندیم نے اپنے ڈنڈے نما لنڈ کو دھیرے دھیرے اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔
"بھائی۔۔۔ بس کریں نا۔۔۔ مجھے چھوڑ دیں نا۔۔۔ میں برباد ہو گئی۔۔۔۔۔۔ ہائے۔۔۔ کوئی مجھے بچا لو۔۔۔ ہائے میں آج مر جاؤں گی۔۔۔ بھائی۔۔۔ بھائی۔۔۔ بسسس۔۔۔ باجی۔۔۔ آہ آہ آہ۔۔۔ آپ روک دیں نا بھائی کو۔۔۔ آہ ہ ہ۔۔۔ میں مر گئی ہائے۔۔۔ " وہ بری طرح روئے جا رہی تھی۔۔۔ اور منتیں کرتی رہی۔ لیکن اس دوران ندیم نے اس کی چونچیاں بھی بھینچ لی۔ وہ ہائے ہائے کرکے روتی رہی۔۔۔ وہ اپنے بدن کو تڑپ تڑپ کر ہلتے ہوئے نیچے سے نکلنے کی کوشش کرتی رہی لیکن ندیم کے جسم اور ہاتھوں میں بری طرح سے دبی ہوئی تھی۔ آخر کار اس نے خواہ مخواہ کی کوششیں ترک کر دیں اور بس نڈھال ہو کر بری طرح چیختی چلّاتی اور روتی رہی۔
ندیم نے اپنی چدائی اب تیز کر دی۔۔۔ اس کا کنواراپن دیکھ کر ندیم اور بھی سیکسی ہوتا جا رہا تھا۔ اس کے دھکے وحشیانہ پن پر آ گئے تھے اور صدف بے چاری نیچے دبی ہوئی سسکتی بلکتی جا رہی تھی۔ کچھ دیر بعد صدف کا رونا اور بلکنا کچھ کم ہو گیا۔۔۔ اور اندر ہی اندر شاید اسے مستی چڑھنے لگی۔۔۔ لیکن وہ سسکتی رہی۔۔۔
"ہائے باجی میں لٹ گئی۔۔۔ میری عزت لٹ گئی۔۔۔ باجی میں برباد ہو گئی۔۔۔ بھائی مجھے چھوڑ دیں۔۔۔ اب بس کر دیں بھائی۔۔۔ ہائے" وہ بس آنکھیں بند کیے یہی بولتی جا رہی تھی۔۔۔ اس کے نیچے پڑا تکیہ خون سے بھیگ چکا تھا۔ اب ندیم نے اس کی چونچیاں پھر سے پکڑ لیں اور انہیں زور زور سے دباتے ہوئے صدف کو چودنے لگا۔ صدف اب کسی حد تک خاموش ہو گئی تھی۔۔۔ شاید وہ سمجھ چکی تھی کہ اس کی جھلی پھٹ چکی ہے اور اب بچنے کا بھی کوئی راستا نہیں ہے۔ لیکن اب اس کے چہرے سے لگ رہا تھا کہ وہ بھی مزا لے رہی ہے۔ اب میں نے بھی چین کی سانس لی۔
میں نے دیکھا کہ ندیم کا لنڈ خون سے سرخ ہو چکا تھا۔ صدف کی کنواری چوت پہلی بار چد رہی تھی اوراس کی ٹائیٹ چوت کے جکڑنے کا اثر یہ ہوا کہ ندیم جلد ہی چھوٹنے والا ہو گیا۔ اچانک نیچے سے صدف کی سسکاری نکل پڑی اور وہ جھڑنے لگی۔ ندیم کو لگا کہ صدف کو اب مزا آنے لگا تھا اور وہ اسی وجہ کارن سے جھڑ گئی تھی۔
مجھے لگا کہ ندیم اب چھوتا کہ تب چھوٹا تو میں نے ندیم سے کہا "جانو! بچی کے اندر نہ چھوٹ جانا۔۔۔ کوئی مصیبت کھڑی نہ ہو جائے"۔ یہ سن کر ندیم نے اپنا لنڈ باہر نکال لیا اور صدف کے چوتڑوں پر پچکاری چھوڑ دی۔ ساری منی صدف کے چوتڑوں پر پھیلنے لگی۔ میں نے جلدی سے ساری منی صدف کے چوتڑوں پر پھیلا دی۔ ندیم اب پر سکون ہو چکا تھا۔
ندیم بستر سے نیچے اتر آیا۔ صدف کو بھی چدوانے کے بعد اب ہوش آیا۔۔۔ وہ ویسے ہی لیٹی ہوئی دوبارہ رونے لگی۔
"بس بیٹی اب تو جو ہونا تھا ہو گیا۔۔۔ چپ ہو جاؤ۔۔۔ دیکھو تمہاری خواہش بھی تو پوری ہو گئی نا۔۔۔"
"باجی۔۔۔ آپ نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا۔۔۔ میں اب کل سے کام پر نہیں آؤں گی۔۔۔" وہ لنگڑاتے ہوئے اٹھنے کی کوشش کرتے ہوئے روتے روتے بولی۔۔۔ اس نے اپنے کپڑے اٹھائے اور دھیرے دھیرے انہیں پہننے لگی۔۔۔ میں نے اسے کپڑے پہننے میں اس کی مدد کی۔ اس دوران ندیم بھی کپڑے پہن چکا تھا۔
میں نے ندیم کو اشارہ کیا۔۔۔ وہ سمجھ چکا تھا۔۔۔ جیسے ہی صدف جانے کو مڑی میں نے اسے روک لیا۔۔۔"سنو صدف۔۔۔ ندیم کیا کہہ رہا ہے۔۔۔"
"صدف۔۔۔ مجھے معاف کر دو بیٹی۔۔۔ دیکھو بیٹی تمہیں ننگی لیٹے ہوئے دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا۔۔۔ پلیز مجھے معاف کر دو بیٹی۔۔۔"
"نہیں۔۔۔ نہیں بھائی۔۔۔ آپ نے تو مجھے برباد کر دیا ہے۔۔۔ میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔" اس کا چہرا آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔
ندیم نے اپنی جیب سے سو سو کے پانچ نوٹ نکال کر اسے دیے۔۔۔ پر اس نے دیکھ کر منہ پھیر لیا۔۔۔ اس نے پھر مزید سو سو کے پانچ نوٹ نکال کر اسے دیے۔۔۔ اس کی آنکھوں میں ایک بارگی چمک آ گئی۔۔۔ میں نے فوراً پہچان لیا۔ میں نے ندیم کے ہاتھ سے نوٹ لیے اور اپنے پرس سے سؤ سؤ کے کل دو ہزار روپے نکال کر اس کے ہاتھ میں پکڑا دیے۔ اس کا چہرا کھل اٹھا۔
"دیکھو۔۔۔ تمہارے بھائی نے غلطی کی اور یہ اس کا حرجانہ ہے۔۔۔ ہاں اگر بھائی سے مزید غلطی کروانی ہو تو اتنے ہی نوٹ اور ملیں گے۔۔۔"
"باجی۔۔۔ میں آپ کی آج سے بہن ہوں۔۔۔ پیسوں کی ضرورت کسے نہیں ہوتی ہے۔۔۔"
میں نے اسے صدف کو گلے لگا لیا۔۔۔ "صدف۔۔۔ بیٹی ہمیں معاف کر دینا۔۔۔ تو سچ میں آج سے میری بہن ہے۔۔۔ آئندہ اگر تمہارا اپنا دل چاہے۔۔۔ بس تبھی یہ کروانا۔۔۔"
صدف خوش ہو کر جانے لگی۔۔۔ دروازے سے اس نے ایک بار پھر مڑ کر دیکھا۔۔۔ اور پھر بھاگ کر آئی۔۔۔ اور مجھ سے لپٹ گئی۔۔۔ اور میرے کان میں کہا "باجی۔۔۔ بھائی سے کہنا۔۔۔ شکریہ۔۔۔"
"اب انہیں بھائی نہیں۔۔۔ بلکہ جیجا جی بولو! اور شکریہ کس لیے۔۔۔؟ پیسوں کے لیے۔۔۔"
" نہیں۔۔۔ ہممم مجھے چودنے کے لیے۔۔۔" وہ یہ کہہ کر واپس مڑی اور باہر بھاگ گئی۔۔۔
میں اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔۔۔ تو کیا وہ یہ سب کھیل کھیل رہی تھی۔ میری نظر جونہی میز پر پڑی تو دیکھا کہ سارے کے سارے نوٹ وہیں پڑے ہوئے تھے۔۔۔
اس کے بعد میں نے صدف کی ماں سے بات کر کے اسے اپنے ہاں مستقل اور فل ٹائم نوکرانی رکھ لیا اور پھر ہم ہر رات ہم تینوں یعنی میں، ندیم اور صدف اکٹھے سوتے اور مل کر سیکس کرتے۔
اس کے بعد کیسے ایک رات ندیم نے وحشی بن کر اس بچی کی کنواری گانڈ بھی پھاڑ ڈالی اور کیسے اس دوران وہ بے ہوش ہو گئی۔ پھر کیسے ندیم نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر بھی صدف کو زبردستی چودا اور مجھے بھی کیسے اپنے دوستوں کے آگے نچوایا اور ان سب سے ایک ساتھ چدوایا۔۔۔ یہ واقعات آئندہ کبھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو یہ تھا ہماری کام والی کے ساتھ ہمارے سیکس کا دل چسپ واقعہ جو میری بیوی نجمہ کی زبانی آپ نے پڑھا۔
اگر اسلام آباد یا راولپنڈی کی کسی لڑکی یا عورت کو سیکس کی خواہش ہو تو بلا جھجک مجھ سے میرے ای میل پر رابطہ کر سکتی ہے۔ مکمل رازداری کی ضمانت دیتا ہوں ہے۔۔۔
Pagal.Nadeem@gmail.com

میری عمر 17 سال ہے اور میں لاہور کا رہنے والا ہوں۔ میں ایف ایس سی کر رہا ہوں. میری ایک بہن ہے جس کا نام ثنا ہے۔ اس کی عمر 15 سال ہے۔ وہ میٹرک میں پڑھتی ہے۔ ثنا کا فگر اس عمر میں بھی گو بچگانہ مگر قیامت ڈھانے والا ہے۔ 32 کے نوکیلے ممے، 22 پیٹ اور 34 کے چوتڑ اور رنگ گورا ہے۔ چڑھتی جوانی کے باعث وہ بے حد سیکسی دکھتی ہے۔ میں جب بھی اپنی بہن کو دیکھتا ہوں تو لنڈ کھڑا ہو جاتا ہے خصوصاً جب ثنا نے ٹائٹ قمیض شلوار پہن رکھی ہو۔
میں اس کے نام کی روزانہ مٹھ لگاتا ہوں۔ میں نے بہت چاہا کہ اسے چود لوں لیکن ہمیشہ یہی سوچ کر ڈرتا رہا کہ کہ یں وہ کسی کو بتا نہ دے۔ اس لیے سوچا کہ کہ پہلے ثنا کو اپنے قریب کر لوں اور اس سے فرینک ہو جاؤں پھر موقع تلاش کروں گا۔
ایک دن ویک اینڈ پر میں بالکل فارغ تھا اور میری بہن ثنا نے آج ٹائٹ سی شلوار قمیض پہن رکھی تھی جس میں سے اس کے جسم کے تمام خطوط واضح نظر آ رہے تھے۔ میرا لنڈ تو جھٹکے کھا رہا تھا اور میں تصور کی آنکھ سے اسے چودتے ہوئے دیکھنے لگا۔ پھر میں نے سوچا کیوں نہ آج اسے گھمانے لے جاؤں اس طرح اس کے اور قریب ہو جاؤں گا۔
میں اپنی بہن کے قریب گیا اور اس سے کہا "ثنا میرے ساتھ لانگ ڈرائیو پر چلو گی؟"
وہ حیران ہو کر میری طرف دیکھنے لگی کیونکہ اس سے پہلے میں نے کبھی اسے ایسی آفر نہیں کی تھی۔ وہ بولی "آج خیریت تو ہے نا بھائی؟"
میں نے کہا "ہاں یار! آج فارغ ہوں اور کوئی دوست بھی نہیں ہے۔۔۔ سوچا تمھیں لے چلتا ہوں"۔
وہ بہت خوش ہوئی اور بولی "ہاں بھائی! چلتے ہیں، میرا بھی سیر کرنے کا بہت دل کر رہا ہے"۔
بس پھر کیا تھا۔ میں تو بہت خوش ہوا کہ اپنی بہن کے ساتھ دوستی بڑھ رہی ہے اور اس کے ساتھ خوب وقت گزرے گا۔ میں امی کے پاس گیا اور ان سے اجازت لی۔ انھوں نے کہا "ہاں جاؤ لیکن بائک دھیان سے چلانا اور زیادہ دور نہ جانا۔ جلدی واپس آ جانا"۔ میں نے امی کے گال کو چومتے ہوئے ان سے "او کے" کہا اور ثنا سے کہا "چلو ثنا! چلتے ہیں"۔
ثنا نے کہا "بھائی! میں کپڑے بدل لوں۔۔۔"
میں نے کہا "ارے نہیں! نہیں! تم ایسے ہی بہت پیاری لگ رہی ہو"۔
اس نے کہا "اچھا" اور اپنا دوپٹہ اٹھا کر گلے میں ڈالا اور ہم بائک پر بیٹھ کر نکل پڑے۔
میں نے سوچا کسی سنسان جگہ جائیں جہاں لوگ نہ ہوں اور یہ سوچ کر میں ہائی وے پر آ گیا۔ وہاں پاس ہی بہت خوبصورت گاؤں تھا۔ ہر طرف سبزہ ہی سبزہ تھا۔
میری بہن نے دیکھ کر کہا "بھائی! یہ تو بہت خوبصورت جگہ ہے"۔
میں نے اس کی بات کی تائید کرتے ہوئے ایک طرف بائک پارک کی اور ہم پیدل ہی سیر کرنے لگے۔ وہاں ایک خوبصورت سا باغ بھی تھا۔ ہم دونوں بہن بھائی سیر کرتے کرتے کچھ دور نکل آئے تھے۔ وہاں دیکھا تو ایک بہت بڑی اور خوبصورت حویلی زیرِ تعمیر تھی لیکن اندر باہر کوئی نظر نہیں آ رہا تھا۔ میں نے سوچا شاید آج ویک اینڈ کی وجہ سے چھٹی ہو اس لیے کام بند ہو۔ میں نے ٹائم دیکھا تو شام کے 4 بج رہے تھے اور ہم گھر سے 3 بجے نکلے تھے۔میری بہن کو بھی وہ حویلی بہت شاندار گی تھی، تبھی اس نے خواہش ظاہر کی کہ ہمیں یہ حویلی اندر سے دیکھنی چاہیے۔ مجھے بھلا کیا اعتراض ہوتا، میں تو خود اپنی بہن کے ساتھ سنسان سے سنسان جگہ پر جانا چاہتا تھا۔ ہم حویلی کے احاطے میں داخل ہو گئے جو کہ اندر سے بھی ابھی پوری طرح نہیں بنی تھی لیکن اس کے باوجود کافی بڑی اور خوبصورت تھی۔ یقیناً کسی بہت بڑے زمیندار کی ملکیت ہو گی۔ ہم ابھی حویلی کو اندر سے گھوم پھر کر دیکھ ہی رہے تھے کہ اچانک کہیں سے پنجابی گانے کی اونچی سی آواز سنائی دی۔
میری بہن بولی "یہ گانوں کی آواز کہاں سے آ رہی ہے۔ یہاں تو کوئی نظر نہیں آ رہا"۔
میں نے کہا "آؤ! دیکھتے ہیں۔۔۔ شاید کوئی چوکیدار یہاں رہتا ہو اور اسی نے گانے  لگائے ہوئے ہوں"۔
ہم آواز کے تعاقب میں ایک زیرِ تعمیر کمرے میں داخل ہوئے  تو وہاں سیڑھیاں نیچے جاتی نظر آئیں اور گانوں کی آواز بھی اسی تہہ خانے سے آ رہی تھی۔ میں اور میری بہن یہ سوچ کر نیچے اترنے لگے کہ یقیناً کوئی چوکیدار ہو گا لیکن سیڑھیوں سے نیچے اتر کر ایک موڑ مڑ کر ہم تہہ خانے کے دروازے سے اندر داخل ہوئے تو کمرے کا منظر دیکھ کر ہماری سٹی گم ہو گئی، میرا بھی چہرا سرخ ہو گیا تھا اور میری بہن نے تو مارے شرم کے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے تھے۔ وہاں تقریباً 8 لڑکے بیٹھے ہوئے شراب اور سگریٹ پی رہے تھے اور ان کے درمیان 2 لڑکیاں جو رنڈیاں لگ  رہی تھیں سر سے پاؤں تک ننگی ناچ رہی تھیں۔
میری بہن نے مجھ سے کہا "چلو بھائی چلیں! یہ اچھے لوگ نہیں ہیں"۔
اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا، ان میں سے ایک لڑکے کی نظر ہم پر پڑ گئی اور وہ ہمیں دیکھ کر زور سے چیختا ہوا بولا "اوئے کون ہو ہو تم؟" اور اس کی آواز پر اس کی نظروں کے تعاقب میں سب ہماری جانب دیکھنے لگے۔
میں نے کہا "سوری بھائی! ہم غلطی سے آ گئے تھے اس طرف۔۔۔ آپ فکر نہ کریں ہم جا رہے ہیں"۔
ان میں سے ایک لڑکے نے پستول نکال کر ہم پر تان لیا اور بولا "اوئے زیادہ ہوشیاری نہ دکھاؤ۔۔۔ اندر آؤ"۔ میں اور میری بہن ڈرتے ڈرتے اندر چلے آئے۔ میری بہن نے اپنا دوپٹہ اچھی طرح اپنے سر اور سینے پر لے لیا تھا۔ میں نے اندر آ کر کہا "بھائی! میں سوری کرتا ہوں، ہمیں نہیں معلوم تھا کہ آپ لوگ نیچے ہو"۔
پستول والا لڑکا بولا "اوئے تجھے کس نے بھیجا ہے اور یہ لڑکی کون ہے؟"
میں نے کہا یہ میری چھوٹی بہن ہے اور ہم یہاں سیر کرتے ہوئے اتفاقاً آ گئے ہیں"۔
اس بات پر وہ لڑکے ہنس پڑے اور ان میں سے ایک بولا "ابے بھڑوے! یہ تیری بہن ہے یا گرل فرینڈ جسے تو یہاں چودنے کے لیے لایا ہے"۔
میں نے کہا "قسم سے بھائی یہ میری بہن ہے اور ہم یہاں سیر کرتے ہوئے آ گئے ہیں"۔ وہ رنڈیاں بھی مجرا بند کر کے کھڑی ہو کر ہماری طرف دیکھ کر اور میری باتوں پر ہنس رہی تھیں۔
ان میں سے ایک لڑکا بولا "اوئے بہن چود! کوئی اپنی بہن کو لے کر سنسان جگہوں پر آتا ہے کیا؟ ہمیں چوتیا سمجھتا ہے۔"
میں نے کہا "نہیں! ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔ میں قسم کھا رہا ہوں آپ کے سامنے"۔
وہ بولا "چل ٹھیک ہے۔۔۔ مان لیتے ہیں یہ تیری بہن ہے لیکن چیز تو مست ہے"۔ اس لڑکے نے ان رنڈیوں کی طرف دیکھ کر ان سے پوچھا "کیوں بھئی! مست چیز ہے نا؟"
ایک رنڈی بولی شکل سے تو کم عمر ہی لگتی ہے لیکن پتا نہیں کتنوں سے چدوایا ہو گا"۔
مجھے بہت غصہ چڑھا اور میں نے اسے کہا "تو خود رنڈی ہے۔۔۔ میری بہن ایک شریف لڑکی ہے۔" اس پر وہ رنڈی ہنسنے لگی۔
میری بہن بہت گھبرائی اور سہمی ہوئی تھی اور اس نے شرم سے اپنا منہ دوسری طرف کر رکھا تھا۔ اس نے مجھے کہا "بھائی! چلو یہاں سے۔۔ ۔ان کے منہ نہ لگو"۔
میں نے بھی کہا "او کے چلو!" یہ سن کر ایک لڑکا اٹھ کر ہمارے پاس آیا اور بولا "گانڈو! تو اور تیری بہن یہاں آئے اپنی مرضی سے ہیں لیکن جاؤ گے ہماری مرضی سے"۔
میں نے اسے کہا "بد تمیزی مت کرو ہمارے ساتھ"۔
اس پر وہ ہنس پڑا اور بولا "اچھا! نہیں تو کیا کرے گا؟" ایک اور لڑکا  اٹھ کر ہمارے پاس آ گیا اور اس لڑکے سے کہنے لگا "نہیں یار! انھیں ایسے مت بول! یہ ہماری بات مان لیں گے"۔
پھر وہ مجھ سے بولا "چل بتا! اپنی بہن کی کیا قیمت لے گا؟ ہمارا تیری بہن کی معصوم اور کمسن جوانی پر دل آ گیا ہے۔ صرف آج کی رات چودیں گے"۔
مجھے اس کی بات سن کر شدید غصہ آ گیا اور میں نے "کتے! تیری ہمت کیسے ہوئی یہ کہنے کی، یہ میری بہن ہے" کہہ کر اس کے منہ پر ایک تھپڑ جما دیا۔ یہ دیکھ کر سارے لڑکے اٹھ گئے اور مجھے پکڑ کر تھپڑ اور مکے مارنے لگے، میری بہن رونے لگی اور ان کی منتیں کرنے لگی کہ میرے بھائی کو چھوڑ دو پلیز۔ ایک لڑکے نے کہا "اس بہن چود کو باندھ دو"۔
یہ سن کر میری بہن ان کی مزید منتیں کرنے لگی "نہیں بھائی نہیں پلیز میرے بھائی کو چھوڑ دیں، ہمیں جانے دیں، پلیز!"
 اس لڑکے نے میری بہن کی طرف دیکھا اور کہا "جانِ من! تیرے لیے تو میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں، لیکن پہلے تیری چوت ماروں گا اور پھر جو تو کہے گی وہ کروں گا۔"
میری بہن روتے ہوئے ہاتھ باندھ کر ان لڑکوں سے صرف اتنا کہہ رہی تھی "نہیں بھائی! پلیز نہیں، ہمیں جانے دیں بھائی!"
اس دوران مجھے ان سب نے پکڑ کر رسیوں سے باندھ دیا تھا لیکن میں انھیں گالیاں نکال رہا تھا اور کہہ رہا تھا "حرامزادو! میری بہن کو کچھ کہا تو میں تمھاری بہن چود دوں گا، گانڈ پھاڑ دوں گا تمہاری ماں چود دوں گا"۔ ایک لڑکا میرے پاس آیا اور مجھے ایک زوردار تھپڑ مارا۔ میں نے اس کے منہ پر تھوک دیا۔ وہ تو غصے میں پاگل ہو گیا اور مجھے مکے اور ٹھڈے مارنے لگا۔
میری بہن یہ دیکھ کر مزید رونے لگی اور اس لڑکے کے پاس آ کر اس کے آگے ہاتھ باندھ کر بولی "پلیز میرے بھائی کو مت ماریں پلیز!"
وہ لڑکا مجھے مارنے سے رک گیا اور مجھے دیکھ کر کہنے لگا "بہن چود! تیری بہن کا ہم آج وہ  حال کریں گے کہ تو بھی ساری عمر یاد رکھے گا اور تیری بہن بھی"۔
دوسری طرف وہ دونوں رنڈیاں کھڑی ہنس رہی تھیں لیکن اس دوران انھوں نے اپنے برا اور انڈر ویئر پہن لیے تھے۔
ایک رنڈی بولی "مجھے تو یہ پکا بہن چود لگتا ہے جو اپنی سگی بہن کو لے کر سنسان حویلی میں آیا تھا"۔
ایک لڑکا بولا "اس لڑکے کا منہ بند کرو!" اس پر ایک رنڈی آگے بڑھی اور بولی "میں کرتی ہوں"۔ یہ کہہ کر اس نے اپنا انڈرویئر اتارا اور اس کا گولا بنا کر میرے منہ میں گھسیڑ دیا۔ میں نے منہ ادھر ادھر کرنے کی بہت کوشش کی لیکن اس نے اپنی گیلی اور بودار پینٹی میرے منہ میں گھسیڑ کر ہی دم لیا۔ سب لڑکے یہ دیکھ کر ہنس رہے تھے۔
میری بہن کا چہرالال سرخ ہو گیا تھا۔ ظاہر ہے اس نے یہ سب کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس لڑکے نے میری طرف دیکھا اور کہا "اب تیری بہن کو تیرے سامنے نچواؤں گا"۔ یہ کہہ کر اس نے پستول نکالی اور مجھ پر تانتے ہوئے میری بہن کو بولا "اگر اپنے بھائی کی زندگی بچانی ہے تو جلدی سے ناچنا شروع کر دے کتیا!"
میری بہن زور زور سے رونے لگی اور ہاتھ باندھ کر اس لڑکے سے معافی مانگنے لگی لیکن اس لڑکے نے ایک کرارا چانٹا میری معصوم بہن کے گال پر رسید کیا اور پستول کی نال میرے ماتھے پر لگا دی۔ میری بہن روتے ہوئے چیخی "نہیں! نہیں! میں ناچتی ہوں لیکن میرے بھائی کو کچھ نہ کہنا"۔ میں رسیوں میں بندھا ہوا تڑپ کر رہ گیا۔
انہوں نے ایک نہایت فحش پنجابی مجرے کا گانا لگا دیا "نیڑے آہ آہ  ظالما وے!"۔ اس لچر گانے کے بول سن کر میری بہن کا چہرا مزید سرخ ہو گیا اور اس کی نظریں زمین پر گڑی ہوئی تھیں، اس نے کبھی ڈانس نہیں کیا تھا بس فرینڈز کے ساتھ کالج میں یا خاندان کی ایک آدھ شادی پر کزنز کے ساتھ تھوڑا بہت۔ پہلے تو میری بہن چپ چاپ کھڑی رہی لیکن جب اس لڑکے نے اسے ڈانٹا  تو وہ پہلے آہستہ آہستہ تھرکنے لگی لیکن لڑکوں کے بار بار ڈانٹنے اور دھمکانے پر تیز ڈانس کرنے لگی۔
ایک لڑکے نے میری بہن سے  پوچھا "تیرا نام کیا ہے؟" وہ بولی "ثنا"۔
اس لڑکے نے کہا "ثنا! میری جان! اپنا دوپٹہ تو اتار، ہمیں تیرا بدن دیکھنا ہے"۔ لیکن میری بہن  نے اپنا دوپٹہ نہ اتارا اور دوپٹے کے ساتھ ہی ناچتی رہی۔
ایک رنڈی آگے بڑھی اور کھینچ کر میری  بہن کے گلے میں سے اس کا دوپٹہ اتار لیا جسے میری بہن نے واپس چھیننا چاہا تو اس رنڈی نے میری بہن کا دوپٹہ ایک لڑکے کی طرف اچھال دیا اور ایک طمانچہ میری بہن کے منہ پر لگاتے ہوئے بولی "گشتی! اب شرمانا اور نخرے کرنا چھوڑ اور سیدھی طرح ڈانس کر"۔
میری بہن نے ٹائٹ شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی جو پہلے تو دوپٹے میں چھپی ہوئی تھی مگر دوپٹہ اترتے ہی اس کے بدن کے تمام ابھار نمایاں ہو گئے تھے۔ میری بہن کے ابھرے ہوئے پستان اور کولھے نظر آنے لگے تھے اور وہ بے حد سیکسی لگ رہی تھی۔ لڑکوں کے تو منہ میں پانی آنا ہی تھا میرا اپنا حال یہ تھا کہ اس آفت میں گھرا ہونے کے باوجود اپنی بہن کے جسم کے خطوط کو ہلتا ہو دیکھ کر ہلکا ہلکا لطف آنے لگا تھا۔ ایک لڑکا مجھ سے بولا "ہائے! تیری بہن تو سیکس بم ہے، میرا تو ابھی سے لنڈ کھڑا ہو گیا ہے"۔
ایک لڑکا بولا "آج ساری رات اس رنڈی کو چودیں گے یار یہ بہت مزے دار چیز ہے سالی"۔ میری بہن اپنے دونوں ہاتھ  اپنی سینے پر رکھ کر اپنی چھاتیوں کو چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس دوران ایک لڑکے نے اپنی پینٹ میں سے چمڑے کا لمبا سا بیلٹ نکال لیا تھا اور اسے میری بہن کے چہرے کے سامنے جھٹکتے ہوئے اسے بولا "گشتی! ہاتھ ہٹا مموں پر سے اور سیدھی طرح ڈانس کر ورنہ اس بیلٹ سے تیری چمڑی ادھیڑ دوں گا اور تیرے بھائی کو گولی مار دوں گا"۔
میری بہن اس لڑکے کے پاؤں میں گر گئی اور بولی "بس بھائی! میں نے آپ کے کہنے پر ڈانس کر لیا، اب ہمیں جانے دیں۔۔۔ ہمارے امی ابو کو پتا چل گیا تو پریشان ہوں گے"۔
ایک لڑکا بولا "ہاں یار کہیں ان کے ماں باپ پولیس میں رپورٹ نہ کروا دیں۔۔۔ کوئی مسئلہ نہ ہو جائے"۔ اس کی بات سن کر وہ آپس میں مشورہ کرنے لگے۔
ایک رنڈی بولی "میں اس کی سہیلی بن کر اس کے گھر فون کر دیتی ہوں کہ یہ آج میرے ساتھ رکیں گے"۔ اس کا آئیڈیا سن کر سب نےا سے داد دی اور وہ رنڈی میری بہن سے بولی "چل اپنے گھر فون کر اور بتا کہ تو اپنی کسی سہیلی کی طرف رکے گی اور بھائی بھی تیرے ساتھ رکے گا"۔
میری بہن بولی "نہیں! میں یہ نہیں کروں گی"۔ اس رنڈی نے میری بہن کے منہ پر ایک تھپڑ لگایا اور جس لڑکے نے بیلٹ نکالی تھی اس نے بیلٹ کو بطور ہنٹر استعمال کرتے ہوئے میری بہن کو گالی دیتے ہوئے اس کی کمر پر ایک کرارا بیلٹ رسید کیا۔ بیلٹ کی چوٹ پڑتے ہی میری بہن کی زوردار چیخ نکلی اور وہ میرے پاس آ کر گر گئی۔ وہ رنڈی میرے پاس آ گئی اور میرے بال پکڑ کر میری بہن سے بولی "ثنا! تیرے بھائی کو ہم گولی مار دیں گے ورنہ۔۔۔"
میری بہن اس کی بات سن کر ڈر گئی اور سسکتے ہوئے "اچھا! کرتی ہوں" کہہ کر اقرار میں گردن ہلا دی۔ میری جیب سے موبائل فون تو ان لڑکوں نے پہلے ہی مجھے باندھنے کے دوران نکال لیا تھا۔ میری بہن کو انہوں نے وہ موبائل فون دیا جس سے اس نے گھر کا نمبر ملایا۔ اس دوران پستول والا لڑکا مسلسل پستول کی نال میری کنپٹی سے لگائے ہوئے تھا۔
امی نے فون اٹھایا تھا، میری بہن نے  سلام کرنے کے بعد کہا "امی! آج میں اور بھائی میری سہیلی کے ہاں رکیں گے"۔
امی نے پوچھا "خیر تو ہے نا؟ کون سی سہیلی ہے؟"
میری بہن نے کہا "امی! وہ مجھے بہت دنوں کے بعد ملی ہے۔ سکول میں ہوتی تھی سلمیٰ"۔
اس کے بعد اس رنڈی نے فون میری بہن کے ہاتھ سے اچک لیا اور  بولی "آنٹی! میں ہوں۔۔ اس کی سہیلی سلمیٰ! آپ فکر نہ کریں، یہ دونوں بہن بھائی آج ہمارے ہاں ہی رک رہے ہیں، کل آ جائیں گے"۔ کچھ دیر بعد امی شاید یہ سوچ کر مان گئیں کہ چلو بھائی بھی ساتھ ہے تو مسئلہ نہیں ہو گا۔ رنڈی نے فون آف کر دیا۔
میں سمجھ گیا تھا کہ آج رات میری بہن کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، آٹھ مسٹنڈے میری بہن کو ساری رات نوچیں گے اور اس کی کنواری چوت کو پھاڑ کر بھوسڑا بنا دیں گے لیکن میں کچھ نہیں کر سکتا تھا۔
میری بہن دوبارہ رونے لگی تھی۔ وہ لڑکے بولے "چل ناچ اب زیادہ ناٹک نہ کر ورنہ۔۔۔" انہوں نے وہی گانا دوبارہ چلا دیا تھا اور میری بہن سسکتے ہوئے دوبارہ ان آٹھ لڑکوں کے سامنے ناچنے لگی۔ میری بہن کو ناچنا نہیں آتا تھا، وہ صحیح ڈھنگ سے ناچ نہیں پا رہی تھی لیکن بغیر دوپٹے کے ٹائٹ شلوار قمیض میں ناچتی وہ واقعی کوئی ٹاپ کلاس گشتی ہی لگ رہی تھی۔ گانا ختم ہوا تو میری بہن بے چاری ان ظالموں کے تھپڑ اور بیلٹ کھا کھا کر چیختے ہوئے ناچ ناچ کر بے حال ہو چکی تھی اور پسینے میں شرابور تھی۔ پسینہ آنے کی وجہ سے میری بہن کی قمیض بالکل ہی ٹرانسپیرنٹ سی ہو گئی تھی کیونکہ اس نے نیچے شمیز نہیں پہنی ہوئی تھی لہٰذا پسینے سے بھیگی لان کی قمیض اس کے بدن سے چپکنے کے باعث اس کا گورا پیٹ اور ناف  اور کمر تو بالکل ہی عریاں نظر آ رہے تھے۔
اس دوران تمام لڑکے اپنی پینٹیں اتار چکے تھے اور میری بہن کا سیکسی مجرا کر اپنے لمبے موٹے لوڑے ہاتھوں میں لےکر مسل رہے تھے۔